ابنا: ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ یوکیاآمانو کے نائب ہرمن نکارتس کل تہران پہنچے جہاں آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے ان کا استقبال کیا ایران اور آئی اے ای اے کے نمائندگان کے درمیان تہران میں مذاکرات طے پائے ہیں اس سے پہلے ٹیکنیکل ماہرین پر مشتل طرفین کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور تیرہ دسمبر کو منعقد ہوا تھا جسے آئی اے ای اے کے نائب سربراہ ہرمن نکارتس اور علی اصغر سلطانیہ نے تعمیری اور مثبت قرار دیا تھا ۔
ان مذاکرات کے بعد طرفین نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ آئندہ مذاکرات پر بھی اسکے مثبت اثرات مرتب ہونگے ان مذاکرات کے بارے میں آئی اے ای اے کے سربراہ نے بھی اپنے بیانات میں کہا ہے کہ تیرہ دسمبر کے مذاکرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ طرفین مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں اور یہ صورتحال آئندہ مذاکرات کی کامیابی میں ممد و معاون ثابت ہوسکتی ہے ۔
تیرہ دسمبر کی نشست میں طے پایا تھا کہ مذاکرات کا اگلا دور جنوری کے وسط میں تہران میں منعقد ہوگا اور اس میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں تحقیقات کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گي۔
ان مذاکرات میں ایران کی طرف سے ایسی حالت میں شرکت کی جارہی ہے کہ ایران نے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے ساتھ ہمیشہ تعمیری تعاون کیا ہے ۔ کہا جارہاہے کہ ان مذاکرات کا اہم ترین موضوع ایران کی پارچین سائیٹ کا معائنہ ہے ۔ کیونکہ مغربی ذرائع ابلاغ نے پارچین سائیٹ کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈا کررکھا ہے کہ یہاں پر ایٹمی اسلحوں کی تیاری کے حوالے سے کام ہورہا ہے ۔گزشتہ مذاکرات میں بھی یہ موضوع اسقدر اہمیت اختیار کرگیا تھا کہ آئی اے ای اے کے سربراہ کے نائب ہرمن نکارتس نے پارچین سائیٹ کے معائنے کو آئی اے ای اے کے اہم امور میں شامل قرار دیا ۔
حالانکہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے مغربی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈوں اور بعض ممالک کے الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لئے 2004 اور 2005 میں آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو پارچین تنصیبات کے معائنے کی اجازت دی تھی ۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مد نظر رہے کہ ایران کی تمام ایٹمی تنصیبات اور انکی سرگرمیاں آئی اے ای اے کے زير نگرانی انجام پا رہی ہیں
آئی اے ای اے کے نمائندوں اور معائنہ کاروں نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کے جتنے بار معائنے کئے ہیں کسی اور ملک میں اسکی مثال نہیں ملتی اور ان معائنوں کے دوران انہیں ایک بار بھی کسی قسم کا انحراف نظر نہیں آیا۔
آج جبکہ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا ہے مغربی ذرائع ابلاغ ایک بار پھر بے بنیاد الزامات لگاکر مذاکرات کی فضا کو خراب کرنا چاہتے ہیں ۔
بہرحال اس صورت حال میں آئی اے ای اے کے نمائندگان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کے بے بنیاد الزامات اور منفی پروپیگنڈوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مذاکرات میں شریک ہوں
.......
/169